Thundan/ September 4, 2017/ Urdu Cheating Wife, Urdu Sex Stories

دوستوں کی فرمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے   روٹین سے ہٹ کر  ایک خوبصورت ناولٹ کی شکل میں کہانی  کو قسط وار پیش کیا جا رہاہے اس کے نام کردار [email protected] فرضی ہیں مماثلث  محض اتفاقیہ ہو سکتی ہے۔ اپنی رائے دینا مت بھولیئے گا۔
اب آپ کہانی سے لطف اندوز ہوں
جہانزیب   لغاری  خوبصورت اٹھائیس سالہ ایک پر کشش مرد تھا اسے  خدا نے مردانہ حسن سے جی بھر کر نوازا تھا کس حسینہ میں اتنا دم تھا کہ اسے ایک دفعہ دیکھ کر دوبارہ نہ دیکھنا چاہےوہ میڈیکل کا اسٹوڈنٹ تھا اور یہ اس کا آخری سال تھا ساری یونیورسٹی میں اس کی ذہانت خدا ترسی کے چرچے تھےاسے سب دوست پیار سے جان کہتے تھے ایسا کون سا میدان تھا جہاں کا وہ شہ سوار نہیں تھا
شاعری ہو یا سنگنگ کے میدان ہوں یا  خوبصورت لڑکیوں کو لوٹنے کے وہ ہر فن میں اپنی مثال آپ تھاجب وہ اشعار کہتا تو ایک منجا ہوا شاعر لگتا اور جب وہ یونیورسٹی میں یاں کسی بھی فنکشن میں اپنی آواز کا جادو جگاتاتو سننے والا بے ساختہ کہہ اٹھتا ایسی سنگنگ تو اس سانگ کے اصل سنگر نے بھی نہیں کی ھو کیا غضب کی آواز ہے وہ بہت ساری دل پھینک خوبصورت  لڑکیوں کا محبوب تھا
 وہ جس سے ملتا اس سے باتیں ہی ایسی کرتا وہ خود کو دنیا کی خوش نصیب لڑکی تصور کرتی کسی کو اس کی شاعری پسند تھی اور کسی کو سنگنگ کوئی اس کی وجاہت کی دیوانی تھی تو کوئی اس کی اعلیٰ ذہانت کی اور ان مہکتی اور مچلتی جوانیوں سے لطف اندوز ہونے کے سارے ہی گر جانتا تھا اگر کوئی  خوبصورت لڑکی اس کو بھا جاتی اور وہ اس کی ان خوبیوں پر فدا نہ ہوتی تو بھی اس کے ترکش میں چند ایسے تیر بھی تھے جو کبھی خطا نہ جاتے
  اس نے اپنے بارے میں مشہور کر رکھا تھاوہ محبت کے معاملے میں زخم خوردہ ہے بس ان کو ہر دل عزیز کرنے کو اتنا ہی  کافی تھا ہر لڑکی یہ سن کر حیران  ہوتی کہ کون تھی وہ بدنصیب جس نے اس شہزادے کا دل توڑا اسے اور کیا چاہیے تھا
اور جہانزیب کا طریقہ واردات بھی عام مردوں سے جدا تھا جب کوئی خوبصورت لڑکی  قریب آ کر آنچ دینے لگتی تو وہ یوں گم صم  ہو کر خلاؤں میں کھو جاتا جیسے اس کے پاس آگ نہیں برف کا تودہ  رکھا ہےکافی دیر خلا کی آپ بیتی سننے کے بعد وہ پائپ میں خوشبو دار تمباکو بھرکر فضا میں خوشبو دار دھواں آہوں’ کی صورت میں چھوڑنے لگتے کڑوے دھوئیں کی جان لیوا خوشبو سے  خوبصورت لڑکی کا ارمانوں بھرا چہرہ دھندلانے لگتا تو اس کی معصوم و مصفا آنکھوں میں اپنی ذات کی نفی کا کرب جاگ اٹھتاتب وہ ہر ندی پار کرنے کا تہیہ کر لیتی اور اگر کبھی جہانزیب کی کوئی دکھتی رگ اس کے ہاتھ آ جاتی تو وہ کچھ اور آگے بڑھنا چاہتی تب جہانزیب اپنے اسی مار ڈالنے والے انداز میں ایک ٹھنڈی سانس چھوڑتےاور کہتےدوست  نہ کوشش کرو
میں اب ان باتوں سے بہت دور ہوں  تب وہ لڑکی تڑپ کے پوچھتی پر کیوں جان جی کیوں وہ تڑپ کے یہی سوال کرتی جاتی تو پھر جہانزیب ایک اور ٹھنڈی سانس چھوڑتے اور دوبارہ اپنے اندر جذب کر کے کہتےچوٹ  کھا چکا ہوں دوبارہ نہیں کھاؤں گا بس اسی وقت وہ لڑکی تڑپ کے پوچھتی کون تھی وہ بد بخت اور کم ظرف تو جان جی اسے نرمی سے ٹوک کر کہتے پلیز اسے کچھ نہ کہو